وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے قطر کے رہنما سے ایک سہ طرفہ ٹیلی فون کال میں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے، دوحہ پر اسرائیلی حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نتن یاہو نے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر بھی افسوس ظاہر کیا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ ’اسرائیل آئندہ اس طرح کا حملہ دوبارہ نہیں کرے گا۔‘
ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا کہ نتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے کی جانے والی ایک ٹیلیفون کال میں اپنے قطری ہم منصب سے معافی مانگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بن یامین نتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جہاں امریکہ کی سربراہی میں تیار کیے گئے 21 نکاتی امن منصوبے پر بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ملاقات سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ غزہ میں امن سے متعلق ’بہت پُراعتماد‘ ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا تمام فریق ان کے 21 نکاتی منصوبے پر متفق ہیں تو انہوں نے دوبارہ کہا ’بہت پُراعتماد۔‘
یہ ملاقات ایک ایسے موقعے پر ہو رہی ہے جب اسرائیل کو غزہ پر بدترین جارحیت کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور وہ اپنے دوست ممالک کی حمایت کھو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس ایک ایسے فریم ورک معاہدے پر پہنچنے کے ’انتہائی قریب‘ ہیں جس سے غزہ پر اسرائیلی بمباری ختم ہو اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن یقینی بنایا جا سکے۔
لیوٹ نے فوکس نیوز کے پروگرام ’فوکس اینڈ فرینڈز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ قطر کے رہنماؤں سے بھی بات کریں گے جو حماس کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 ستمبر، 2025 کو وائٹ ہاؤس پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا استقبال کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/HmjQe9u
0 Comments