کراچی : صدر میں قائم گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ 3 منٹ کے فاصلے پر فائر اسٹیشن ہونے کے باوجود آگ کیوں نہ بجھائی جاسکی۔
جی ہاں !! گل پلازہ کی عمارت سے صرف ایک کلومیٹر دور یعنی صرف 3 منٹ کی ڈرائیو پر ایک ایسی بلڈنگ بھی ہے جو شاید سب کچھ بدل سکتی تھی۔ اس فائس اسٹیشن کو برطانوی حکومت نے 1937 میں بنایا تھا۔
شہر قائد میں واقع اس تاریخی فائر اسٹیشن کی عدم فعالیت پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ یہ عمارت گل پلازہ سے محض ایک کلومیٹر یا تقریباً تین منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق ماضی میں یہاں نصب گھنٹے کی آواز سنائی دیتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر آگ سے متاثرہ عمارتوں کی جانب روانہ ہو جایا کرتی تھیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاریخی عمارت غیرفعال ہوگئی اور حکومتی عدم توجہی کے باعث آج یہ ویران، خستہ حال اور تقریباً فراموش ہوچکی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق جس رات گل پلازہ میں خوفناک آگ بھڑکی، شعلے عمارت کی ایک ایک منزل کو لپیٹ میں لیتے گئے جبکہ دھواں عمارت میں موجود افراد کو گھیرتا گیا اور قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس قریبی فائر اسٹیشن پر مکمل عملہ اور سہولیات موجود ہوتیں تو فائر بریگیڈ صرف تین منٹ میں موقع پر پہنچ سکتی تھی اور ممکن ہے کہ آگ پر ابتدائی مرحلے میں قابو پالیا جاتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سانحہ ایک مرتبہ پھر حکومتی ترجیحات اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، کیونکہ ایسے واقعات کے پیچھے اکثر بنیادی وجہ غفلت اور انتظامی کمزوری ہی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں : گل پلازہ میں ہونے والی اموات کی اصل ذمہ داری کس پر؟؟
واضح رہے کہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے ریسکیو آپریشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
تنویر پاستا نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ سانحہ میں ہونے والی اموات کی اصل ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات تھے۔
انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی صبح 10 بج کر 55 منٹ پر پہنچی لیکن محض 20 منٹ میں اس کا پانی ختم ہو گیا، جبکہ مزید دو فائر ٹینڈر ساڑھے 11 بجے پہنچے، تب تک آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/SlCnfuY
0 Comments