ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایران میں دوسرے ایئرمین کا کھوج لگانے اور انہیں ریسکیو کرنے کے لیے ’گھوسٹ مرمر‘ نامی انتہائی خفیہ اور جدید ٹرین ٹیکنالوجی استعمال کی۔ امریکی ایئرمین کا طیارہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے پہاڑوں پر مار گرایا گیا تھا۔
یہ امریکی فضائی افسر صرف اپنے کال سائن ’ڈیوڈ 44 براوو‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ’انتہائی قابلِ احترام کرنل‘ قرار دیا۔ وہ ایف 15 ای طیارے میں ہتھیاروں کے نظام کے افسر تھے، جو جمعے (تین اپریل) کو اصفہان کے جنوب مغرب میں مار گرایا گیا، جس کے بعد طیارے میں سوار دونوں افراد کو بچانے کے لیے فوری طور پر دوڑ شروع ہو گئی۔
اگرچہ پائلٹ طیارے سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے اور انہیں اسی دن دو فوجی ہیلی کاپٹروں نے بچا لیا، لیکن دوسرے افسر جو زخمی تھے، دشمن کی صفوں کے پیچھے 200 میل دور تھے اور ان کے پاس صرف ایک ہینڈ گن تھی۔ انہیں اپنے سر پر انعام کے ساتھ 36 گھنٹے تک بنجر بیابان میں گرفتاری سے بچنا پڑا۔
اس فضائی افسر کو بقا، فرار اور مزاحمت کی خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ وہ پہاڑ کی ایک دراڑ میں چھپنے سے ٹھیک پہلے بوئنگ کا بنا ہوا ایک خاص ٹریکنگ آلہ فعال کرنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم چھپے رہنے کے دوران اس کا درست مقام پھر بھی غیر یقینی رہا۔
اخبار نیویارک پوسٹ کو ذرائع نے بتایا کہ انہیں بالآخر نئی گھوسٹ مرمر ٹیکنالوجی کی بدولت اتوار کو سورج نکلنے سے پہلے کمانڈوز کی ایک ٹیم نے ڈھونڈ کر بچا لیا۔
گھوسٹ مرمر ٹیکنالوجی میں آلات انسانی دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کا پتہ لگانے کے لیے طویل فاصلے کی کوانٹم میگنیٹومیٹری، جو مقناطیسی میدانوں کی پیمائش کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کا استعمال کرتے ہیں۔
پھر یہ ٹیکنالوجی اس ڈیٹا کو اے آئی سافٹ ویئر کے ساتھ جوڑتی ہے تاکہ اسے پس منظر کے خلل ڈالنے والے شور سے الگ کیا جا سکے اور اس کے منبع کا قطعی تعین کیا جا سکے۔
پیر کو اس جرات مندانہ آپریشن کے حوالے سے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ’شاندار کام‘ کرنے پر تعریف کی اور انہیں ایئرمین کی بازیابی میں استعمال ہونے والے نئے آلے پر بات کرنے کی دعوت دی۔
صدر نے مذاق میں کہا: ’یہ (ٹیکنالوجی) خفیہ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر انہوں نے اس کے بارے میں بات کی تو مجھے انہیں جیل میں ڈالنا پڑے گا اور میں انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ اس کے حقدار نہیں۔‘
ریٹکلف نے ٹیکنالوجی کا نام لیے یا تفصیل میں جائے بغیر محتاط انداز میں بات مانی اور کہا کہ ان کی ایجنسی نے ’ایسی شاندار ٹیکنالوجیز استعمال کی ہیں، جو کسی اور انٹیلی جنس سروس‘ کے پاس نہیں ہیں اور انہوں نے ریسکیو کی اس کوشش کا موازنہ ’صحرا کے وسط میں ریت کے ذرے کی تلاش‘ سے کیا۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایرو سپیس کی بڑی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ اور جدید ترقیاتی ڈویژن، سکنک ورکس نے تیار کی ہے اور اسے مستقبل میں ایف 35 لڑاکا طیاروں کے ساتھ استعمال کرنے سے قبل بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر آزمایا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اخبار کے ذریعے نے اس ٹیکنالوجی کو ایک دلچسپ مثال سے سمجھایا: ’یہ ایسا ہے جیسے سٹیڈیم میں کسی ایک شخص کی آواز سنی جائے۔ بس فرق یہ ہے کہ وہ سٹیڈیم ہزار مربع میل کا صحرا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’صحیح حالات میں، اگر آپ کا دل دھڑک رہا ہو تو ہم آپ کو ڈھونڈ لیں گے۔‘
ذریعے نے بتایا کہ ایران کا دور دراز بیابان اس ٹیکنالوجی کے پہلی بار استعمال کے لیے ایک بہترین جگہ ثابت ہوا۔ چوں کہ اس علاقے میں برقی مقناطیسی مداخلت نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے کوئی اور انسانی سگنل موجود نہیں تھا، جو الجھن پیدا کرتا۔ رات کے وقت ایک زندہ انسانی جسم اور ٹھنڈے صحرائی فرش کے ماحول میں حرارت کا فرق بھی افسر کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والا مقناطیسی سگنل اتنا کمزور ہوتا ہے کہ صرف ہسپتال میں سینے پر براہ راست رکھے گئے سینسرز سے ہی اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن کوانٹم میگنیٹومیٹری کہلانے والے شعبے میں ہونے والی پیش رفت نے، خاص طور پر مصنوعی ہیروں میں خرد بینی نقائص کے گرد بنائے گئے سینسرز نے، بظاہر ان سگنلز کو ڈرامائی طور پر زیادہ فاصلے سے پکڑنا ممکن بنا دیا ہے۔
انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی حدود پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صلاحیت ہر چیز جاننے والی نہیں ہے۔ یہ دور دراز، کم ہجوم والے ماحول میں بہترین کام کرتی ہے اور اسے پروسیسنگ کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔‘
<p class="rteright">9 اگست 2019 کو امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری کی گئی اس تصویر میں ایف 15 ای طیارہ خلیج میں نامعلوم مقام پر پرواز کر رہا ہے (روئٹرز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/0AeYHM9
0 Comments