Hot Posts

6/recent/ticker-posts

news

لندن کے برائٹن ساحل پر نوجوان لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی پر 28 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سسیکس پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا جب کہ متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 20 سال ہے۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد برائٹن ساحل کے برائٹن i360 ٹاور کے سامنے واقع علاقے کو سیل کر دیا گیا جہاں فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے جبکہ متعدد پولیس اہلکار موقع پر تعینات رہے۔ ترجمان پولیس نے بتایا کہ 28 سالہ مشتبہ شخص کو زیادتی کے شبہے میں گرفتار کرکے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس سے تفتیش جاری ہے تاہم اس پر ابھی تک باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق جب سسیکس پولیس سے گرفتار شخص کی قومیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو پولیس نے جواب دیا کہ کسی ملزم کی قومیت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جاتی جب تک اس پر باقاعدہ فردِ جرم عائد نہ ہو جائے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی اور بتایا کہ انھیں خصوصی تربیت یافتہ افسران اور ماہرین کی جانب سے ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ سسیکس پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے واقعے کے وقت برائٹن ساحل یا i360 ٹاور کے اطراف کوئی مشکوک سرگرمی دیکھی ہو یا اس کے پاس ویڈیو، تصاویر یا دیگر معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ موجودہ واقعے کی تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے پر جاری کی جائیں گی۔ یاد رہے کہ تین ہفتوں قبل ہی برائٹن ساحل پر ایک اور خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں تین مصری پناہ گزینوں کو 18 سے 27 سال تک کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ مصر سے آکر برطانیہ میں پناہ کی درخواست کرنے والے ان ملزمان کارن الدناسورت، ابراہیم الشافعی اور ایرانی شہری عبداللہ احمدی نے ایک بے ہوش خاتون سے اجتماعی زیادتی کی تھی۔ عدالت نے سزا مکمل ہونے کے بعد بھی تینوں مجرموں کو چھ سال کی توسیعی نگرانی  پر رکھنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ ان کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اس لیے سزا پوری ہونے کے بعد انہیں برطانیہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔  

from The Express News https://ift.tt/U4beBvi

Post a Comment

0 Comments