پاکستان نے جمعرات کی شب کہا ہے کہ سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال حملے کا فوری اور موثر جواب دیا گیا ہے۔
افغان طالبان حکومت نے اب سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے سرحد پر پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان-افغانستان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کر کے سنگین غلطی کی، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔‘
وزارت اطلاعات کے مطابق ’چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان فورسز کو جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
’ابتدائی رپورٹس کے مطابق افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد چوکیاں اور سازوسامان تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔‘
افغانستان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایکس پر پشتو اور اردو میں اپنے سلسلہ وار بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے خلاف بھاری اور جدید اسلحے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جبکہ بعض چوکیوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔
تاہم تاحال پاکستان کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔‘
اس سے قبل پاکستان نے 21 فروری کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔
<p>طالبان کے سکیورٹی اہلکار 22 فروری 2026 کو ننگرہار پر پاکستانی فضائی حملے کے بعد متاثرین کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/lQtCFwc
0 Comments