Hot Posts

6/recent/ticker-posts

news

کراچی میں مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے جمعے کو نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراضات کے بعد قبر کشائی آٹھ اگست (ہفتے) کو ہونے کا امکان ہے۔

تفتیشی افسر نے جمعے کو میر رضا کے والد اور ڈاکٹر سمیعہ سید کے بیانات ریکارڈ کیے جو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں جمع کرائے جائیں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مجسٹریٹ کے نئے احکامات کی روشنی میں قبر کشائی ہفتے کو کی جائے گی۔

میر رضا علی کے والد  نے حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے نئے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل روک دیا گیا۔

اس حوالے سے مدعی کے وکیل جبران ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک وہ آٹھوں ڈاکٹر مکمل طور پر اہل تھے، جنہیں پولیس سرجن نے سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کی دفعہ 16، مجسٹریٹ کے حکم اور اپنے قانونی اختیارات کے تحت نامزد کیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے ان ڈاکٹروں کے کردار، تجربے یا پیشہ ورانہ قابلیت میں کوئی ایسی خامی نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر انہیں تبدیل کیا جاتا۔ نہ ان پر کسی سکینڈل کا الزام ہے، نہ ان کے کیریئر پر کوئی داغ ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پہلے کبھی پوسٹ مارٹم یا طبی معائنہ نہیں کیا۔‘

جبران ناصر کے مطابق: ’اس کے باوجود رات بارہ بجے اچانک چار نئے نام شامل کر دیے گئے، جن میں سے تین ڈاکٹر کراچی کے بھی نہیں ہیں۔ مسئلہ کسی شہر یا علاقے کا نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد کا ہے۔ سندھ حکومت کا قانون کہتا ہے کہ جس شہر میں طبی معائنہ ہونا ہو، اس کے قریب ترین سرکاری شعبے کی یونیورسٹی سے پروفیسرز لیے جائیں، نہ کہ سیکڑوں کلومیٹر دور سے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’جب کوئی کام رات کی تاریکی میں، غیر شفاف اور غیر قانونی انداز میں کیا جائے تو اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اگر قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم شفاف انداز میں نہ ہوا تو مقدمہ متاثر ہوگا، اور اگر دوبارہ پوسٹ مارٹم ہی نہ ہوا تو بھی کیس کو نقصان پہنچے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو جان بوجھ کر تاخیر پیدا کر کے تنازع کھڑا کیا جا رہا ہے یا پھر مدعی کو نئے نامزد ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پولیس سرجن کی ’جرات اور صبر‘ کو بھی سراہا۔

جبران ناصر نے کہا کہ اس مقدمے میں اصل طاقت متاثرہ خاندان ہے۔ ’ہم صرف ان کا ساتھ دینے آئے ہیں۔‘

جبران ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ ’سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ کارروائی مکمل طور پر شفاف ہونی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو، کیونکہ غیر شفاف اقدامات مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق میڈیکل بورڈ تشکیل دینا اور میڈیکل لیگل افسران کی نگرانی پولیس سرجن کی قانونی ذمہ داری ہے، اس کے باوجود انہیں غیر متعلقہ افسر قرار دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا: ’عدالت نے واضح طور پر موت کی اصل وجہ معلوم کرنے اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا، لیکن اسی روز کیس حل ہونے کا تاثر دینا سوالات کو جنم دیتا ہے۔‘

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اگر اصل میڈیکل بورڈ بحال کر دیا جائے تو مدعی فریق آج بھی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے تیار ہے اور ان کا اعتراض صرف نئے شامل کیے گئے ڈاکٹروں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب آئندہ کارروائی کا فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ کریں گے۔

میر رضا علی کے والد نے حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے نئے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل روک دیا گیا۔
جمعہ, اگست 7, 2026 - 22:45
Main image: 

<p>اہل خانہ کے مطابق میر رضا 28 جولائی&nbsp;کو کام سے گھر آئے لیکن رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے اور واپس نہ لوٹے (شاہ زیب حسین)</p>

jw id: 
1E9BHWqa
type: 
SEO Title: 
میر رضا علی کے اہل خانہ کے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراضات، قبر کشائی کا ہفتے کو امکان


from Independent Urdu https://ift.tt/UhzbWAD

Post a Comment

0 Comments