سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ 29 ستمبر، 2026 کو صبح 5 بج کر 11 منٹ پر مدینہ منورہ میں طیبہ گرڈ سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے جمعرات کی شب ایکس پر ایک نوٹس جاری کیا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
نوٹس کے مطابق متعلقہ حکام کی تحقیقات، دستیاب شواہد اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے تجزیے سے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔
اتحادی افواج کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوا، تاہم مجموعی طور پر بجلی کی ترسیل اور نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 1, 2026
ترجمان نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی شہری تنصیب کو نشانہ بنانا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
ترجمان نے اسے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنے والی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا۔
اتحادی افواج نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو روکنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

<p class="rteright">سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی حوثی حملے سے متاثرہ جگہ کی تصویر(ایکس اکاؤنٹ)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/HQ2w973
0 Comments