ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکا بالآخر خطے سے نکل جائے گا جبکہ اسرائیل کے بھی خطے میں قیام کے دن گنے جاچکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کا خطے سے نکلنا ناگزیر ہے اور اسرائیل کے لیے بھی یہاں موجود رہنا ممکن نہیں رہے گا۔
ان کے بقول بالآخر ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک ہی اس خطے میں موجود رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست معاملات کریں گے۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ وہ وقت آنے پر امریکا اور اسرائیل کو خطے سے اپنی موجودگی ختم کرنا پڑے گی جبکہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک خطے میں برقرار رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہے یہ دن امریکا اور اسرائیل کے لیے افسوس اور پشیمانی کا باعث ہوگا۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں۔
The U.S. will inevitably leave this region, and the Zionist regime’s days are numbered.
Ultimately, it is we and our neighbors who remain here, face to face.
That day will be a day of regret.
— ابراهیم عزیزی (@Ebrahimazizi33) September 29, 2026
ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے اپنی شرائط امریکا تک پہنچانے کے دعوے کیے جارہے ہیں جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور اسرائیل کے کردار پر تہران کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
from The Express News https://ift.tt/UEsAc2l
0 Comments