برطانیہ کے تاریخی فٹبال اسٹیڈیم اولڈ ٹریفورڈ میں پہلی بار اذان کی آواز گونجنے کا منفرد اور تاریخی منظر دیکھنے میں آیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تقریب انگلش فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے تعاون سے منعقد کی گئی جس میں درجنوں مسلم مداحوں اور مہمانوں نے شرکت کی۔ اس تاریخی لمحے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور اسے بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسٹیڈیم میں نہ صرف اذان دی گئی بلکہ رمضان کی مناسبت پر مانچسٹر یونائیٹڈ نے اجتماعی افطار کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یہ افطار مانچسٹر یونائیٹڈ مسلم سپورٹرز کلب کے تعاون سے منعقد کی گئی جس میں قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کی گئی۔ جس میں تقریب میں مراکش کے بین الاقوامی فٹبالر نۃصیر مزروئی بھی شریک ہوئے جو 2024 میں جرمن کلب بائرن میونخ سے مانچسٹر یونائیٹڈ میں شامل ہوئے تھے۔ تقریب میں مانچسٹر یونائیٹڈ اکیڈمی کے کوچ عمران حامد نے بھی شرکت کی۔ وہ یونین آف یورپین فٹبال ایسیوی ایسن کے بھی لائسنس ہولڈر اور انگلینڈ کی پریمیئر لیگ کی مہم ’’نسل پرستی کیلیے کوئی جگہ نہیں‘‘ کے آئیکون بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے نوجوان کھلاڑیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کھیل کے میدان میں مذہبی رواداری اور تنوع کی اہمیت پر زور دیا۔ مسلم سپورٹرز کلب کے صدر آصف محمود نے اس موقع کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اولڈ ٹریفورڈ میں افطار اور اذان کا انعقاد مسلم شائقین کے لیے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے معروف ترین فٹبال کلبوں میں سے ایک ہے جس میں اس طرح کی تقریب کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیل کے میدان میں مذہبی و ثقافتی تنوع کو قبول کیا جا رہا ہے۔
from The Express News https://ift.tt/BqT6Hf1
0 Comments