برطانیہ کے بدنام زمانہ جنسی درندے اور سیریل کلر اسٹیو رائٹ آخرکار اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مشہور برطانوی سیریل کلر اسٹیو رائٹ کو 17 سالہ لڑکی کے قتل اور ایک اور کے اغوا کی کوشش کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ واقعہ 1999 کا ہے جب وکٹوریہ ہال رات گئے کلب سے گھر جاتے ہوئے راستے میں کہیں گمشدہ ہوگئی تھیں اور 5 دن بعد برہنہ حالت میں لاش ایک نالے سے ملی تھی۔ برسوں تک اندھا قتل کئی حل نہ ہو سکا تھا لیکن 2019 میں پولیس نے دوبارہ تحقیقات شروع کیں اور ڈی این اے کے جدید تجزیات کے ذریعے اسٹیو رائٹ کو شامل تفتیش کیا گیا۔ اسٹیو ائٹ 2006 میں پانچ خواتین کے قتل کے جرم میں گرفتار تھا اور تفتیش کے دوران ڈی این اے ملنے سے 2019 کا یہ غیر حل شدہ معمہ بھی حل ہوگیاْ اسٹیو رائٹ کا پچھلا ڈی این اے 2001 کا تھا اور جو چوری کے جرم میں لیا گیا ڈیٹا بیس کا حصہ تھا جس سے اس کا تعلق وکٹوریہ کے قتل سے بھی ٹھہرا۔ وکٹوریہ کے قتل کے اگلے ہی روز ایک اور لڑکی ایملی ڈوہرٹی کی زیادتی کی نیت سے اغوا کی ناکام کوشش بھی کی گئی تھی اور اس مکروہ عمل میں بھی اسٹیو رائٹ ملوث تھا۔ سزا کے حساب سے مجرم اسٹیو رائٹ کو وکٹوریہ کے قتل پر 40 سال، اس کے اغوا پر 12 سال اور ایملی کے اغوا کی کوشش پر 9 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر اسٹیو رائٹ کو 61 سال کی سزا سنائی گئی جن میں سے وہ کم از کم 40 سال قید کاٹیں گے۔ یاد رہے کہ اسٹیو رائٹ پہلے ہی 2006 میں 5 خواتین کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سخت ترین سزا بھگت رہا ہے جس کی وجہ سے اسے رہائی کا امکان نہیں ہے اور وہ قید ہی میں مرنے کے لیے تیار ہے۔
from The Express News https://ift.tt/AgvrdNf
0 Comments